بدھ 25 فروری 2026 - 15:08
جناب ابو طالب علیہ السلام: ایمانِ کامل کا خاموش مجاہد

حوزہ/ حضرت ابو طالب وہ شخصیت ہیں جن کی قربانیوں کا اپنوں اور غیروں میں سے سب نے اقرار کیا۔ حضرت ابو طالب صدر اسلام کی ایک عظیم شخصیت ہیں، جنہوں نے اسلام و رسول اکرم (ص) کی خاطِر قابل ذکر خدمات انجام دیں۔

تحریر: عرفان حسین انجم

حوزہ نیوز ایجنسی I جب بھی اللّٰہ تعالیٰ نے انسانیت کی ہدایت کے لیے انبیاء کو مبعوث کیا تو ان کے مقابلے میں دو گروہ سامنے آئیں ایک وہ گروہ جس نے ان کی مخالف کی اور خدا کے بھیجے ہوؤں کو تکلیف و اذیت دینے کے لیے ہر قسم کے ہتھکنڈے استعمال کیے ،دوسرا وہ گروہ جنہوں نے ان کی پشت پناہی کی ،خداوندعالم کی مخلوقات میں ایسے افراد بھی کم نہ تھے کہ جب انبیاء و اولیاء کو مشکل میں دیکھا تو اپنی جان کی بازی لگائی اور ہر قسم کی مشکلات کو اپنی جان پر جھیل کر انبیاء الٰہی کے لیے پشت پناہ بنے ،انہی افراد میں سے رسول خدا کی پشت پناہ بنے وہ حضرت ابو طالب ہیں جن کی قربانیوں کا اپنوں اور غیروں میں سے سب نے اقرار کیا حضرت ابو طالب صدر اسلام کی ایک عظیم شخصیت ہیں ،جنہوں نے اسلام و رسول اکرم (ص) کی خاطِر قابل ذکر خدمات انجام دیں آپ کے ایمان کے بارے میں اسلام کے مختلف فرقوں کے مختلف نظریات ہیں بعض وجوہات کی بناپر مخالفین کی طرف سے ان پر الزام لگانے کی کوشش کی گئی ہے جن میں سے ایک ایک الزام جو لگایا جاتاہے وہ یہ کہ حضرت ابو طالب علیہ السّلام نے دین اسلام کو قبول نہ کیا اور کفر کی حالت میں اس دنیا سے گئے اور نسلی و خاندانی تعصب کی بنا پر انہوں نے رسول خدا صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی خدمت کی، بعض متعصب مفسرین نے اپنی تفسیر میں سورہ ہود کی آیت ۹۱ کے ذیل میں کہا ہے کہ جس طرح حضرت شعیب علیہ السّلام کے قریبی افراد دشمن حضرت شعیب کے ہم مذہب تھےلیکن انہوں نے اپنے قومی تعصب کی بناء پر حضرت شعیب کا ساتھ دیا اسی طرح حضرت ابو طالب مشرکین مکہ کے ہم مذہب تھے لیکن انہوں نے قومی تعصب کی بناء پر رسول خدا کی حمایت کی ،اس نظریہ کے ماننے والوں میں سے علامہ شنقیطی ہے جو کہ صاحب تفسیر ،اضواء البیان ہے اور اس کے پیروکار بھی اس نظریے کے قائل ہیں ۔

صاحب اضواء البیان کا مختصر سا تعارف

محمد امین شنقیطی سلفی وہابی عالم میں سے ایک ہیں آپ 1905 کو طریقہ کے اسلامی ملک موریطانیہ کے شہر تگنٹ میں پیدا ہوئے۔ آپ بچپن میں یتیم ہو گئے اور آپ کی کفالت آپ کے ماموں نے کی۔ تکمیل تعلیم کے بعد اپنے ہی شہر میں درس و تدریس کے شعبے سے منسلک ہوگئے۔ پھر جب حج کا فریضہ انجام دینے کے لیے حجاز آئے تو باقی زندگی ادھر ہی گزاری، یہاں ابن تیمیہ کے افکار کے تحت تاثیر قرار پائے اور ظاہر پرستی کے مسلک کو قبول کر لیا۔ انہوں نے علم فقہ واصول و تفسیر میں کئی کتب لکھی ہیں، حجاز سفر کے بعد مدینہ میں سکونت اختیار کی اور مسجد نبوی میں درس دیا کرتے تھے۔ 10 جنوری 1974 میں مکہ میں وفات پائی۔ تفسیر اضواء البیان فی ایضاح القرآن بالقرآن ان کی قرآنی خدمات میں سے ایک ہے جس کی آٹھویں ونویں جلد ان کے شاگر د عطیہ محمد سالم نے لکھی ہے۔

حضرت ابو طالب علیہ السّلام کے ایمان کے بارے میں دلائل

اب یہاں پر ہم وہ گروہ جو حضرت ابو طالب کو مسلمان ماننے سے انکار کرتے ہیں اور آپ کے ایمان پر اشکال اٹھاتے ہیں ان کے اشکالات کے مختصر سے جوابات پیش کریں گئے

دلیل اول: آیات قرآنی

صاحب اضواء البیان نے آیات قرآنی سے ثابت کیا کہ انبیاء کی مدد بعض اوقات ان کے خاندان والوں نے تعصب کی بناء پر کی، جبکہ ان کے خاندان کے افراد ان کو اللہ کا برحق نبی نہیں مانتے تھے، جب اس بات کو قرآن کی آیات کی روشنی میں دیکھتے ہیں تو واضح ہوتا ہے کہ نسلی تعصب کی بناء پر افراد کی ایک دوسرے کی، یا انبیاء الہی کی حمایت ایک حد تک تھی، قرآن و تاریخ انسانیت اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ نسلی تعصب انسان کو اپنے نظریات و اپنے عقیدے کے سامنے گھٹنے ٹیکتا ہوا نظر آتا ہے، مثال کے طور پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے چچا نے جب دیکھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ان کے بتوں کی بے حرمتی کرتے ہیں تو ان کو دھمکی دینے لگے قرآن نے اس مطلب کوان الفاظ میں نقل کیا ہے:٫٫قَالَ اَرَاغِبٌ اَنۡتَ عَنۡ اٰلِہَتِیۡ یٰۤـاِبۡرٰہِیۡمُ ۚ لَئِنۡ لَّمۡ تَنۡتَہِ لَاَرۡجُمَنَّکَ وَ اہۡجُرۡنِیۡ مَلِیًّا﴿۴۶﴾سورۃ مریم

ترجمہ:٫٫اس نے کہا: اے ابراہیم! کیا تو میرے معبودوں سے برگشتہ ہو گیا ہے؟ اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے ضرور سنگسار کروں گا اور تو ایک مدت کے لیے مجھ سے دور ہو جا،،

حضرت ابراہیم اپنے چچا کے پاس رہتے تھے اور جب اس کو بتوں کی پوجا پاٹ سے روکنے لگے اور خود ان کے چچا ان کو اپنے سے دور ہو جانے کا کہنے کے ساتھ ساتھ ان کی حمایت سے ہاتھ اٹھالیا، اس آیت سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ عقائد کے سامنے رشتہ داری کو نہیں دیکھا جاتا۔ اس آیت کے ذیل میں صاحب اضواء البیان نے لکھا کہ "اس باپ (چاچا) نے اس کے سامنے سختی اور شدت کا راستہ اختیار ا کیا کیونکہ بتوں کی پوجا کرنے والے متعصب کفار کی یہ عادت ہے کہ جب وہ محکم و قاطعہ دلیل کا مقابلہ نہیں کر سکتے تو قوت کا استعمال کرتے ہیں۔ "

دلیل دوم: نبی کریم کے ساتھ حضرت ابو طالب کا رویہ

ہمیشہ حضرت ابو طالب خود بھی رسول خدا کی حمایت کرتے اور اپنے بچوں کو بھی اس کی تشویق دلاتے، اس بارے میں تاریخ نے بہت سے دلائل ذکر کیے ہیں جن میں سے ایک یہ کہ جب انہوں نے اپنے بیٹے حضرت علی علیہالسلام کو نبی کریم کے ساتھ نماز ادا کرتے دیکھا تو فرمایا٫٫ اما إنه لم يدعك إلا إلى خير فالزمه،، "یعنی حضر محمد تجھے نیکی کے علاوہ کسی چیز کی طرف نہیں بلاتے پس ہمیشہ انہی کے ساتھ رہو"ایک اور روایت میں آیا ہے کہ جس وقت حضرت ابو طالب نے دیکھا کہ حضرت رسول خدا نماز پڑھ رہے ہیں اور حضرت علی علیہ السلام ان کے دائیں طرف کھڑے نماز ادا کر رہے ہیں تو اپنے بیٹے جعفر سے کہا کہ "صل جناح ابن عقک"یعنی: اپنے چاکے بیٹے کے ساتھ نماز ادا کرو۔

بس ان روایات سے پتا چلتا ہے کہ حضرت ابو طالب با ایمان تھے ایک شخص دوسرے مذہب کے ہو اور وہ اپنے بچوں کو کسی دوسری مذہب کے عقائد کرو یہ نہیں ہوسکتا ہے جو حضرت ابو طالب پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ مومن نہیں تھے تو میں ان روایات کی روشنی میں ان سے کہتا ہوں کہ کیا آپ پسند کریں گئے کہ آپ کی اولاد آپ کے مذہب کو چھوڑ کر کسی دوسرے مذہب کے پیروکار بن جائیں

دلیل سوم : رسول خدا صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کا گھر آنے میں تاخیر اور حضرت ابو طالب علیہ السّلام کا رد عمل

۔ رسول خدا ایک رات یا ایک دن ذرا تا خیر سے گھر پہونچے تو حضرت ابوطالب بہت زیادہ پریشان ہوئے اس لئے کہ اس سے پہلے ایک قریش نے کہا تھا کہ اس شخص کا خاتمہ کر دینا چاہئے ۔ وہ خوف زدہ ہوئے کہ کہیں یہ تاخیر اس شخص کی دھمکی سے مربوط تو نہیں۔ تمام بنی باشم کو آمادہ کیا کہ وہ اپنی عبا کے نیچے اسلحہ رکھ لیں اور قریش کی طرف روانہ ہو جائیں ۔ اسی وقت زید بن حارثہ آئے اور بتایا کہ رسول خدا ایک مخصوص علاقہ میں تبلیغ میں مشغول ہیں اس لئے تاخیر ہوگئی ہے۔ کیا رشتہ داری کی وجہ سے کوئی شخص اپنے خاندان کے افراد کی زندگی کو خطرات میں ڈال سکتا ہے ؟ کیا ایک بھتیجے کی تاخیر کی وجہ سے اتنا پریشان ہوا جا سکتا ہے کہ تمام بنی ہاشم کو تیار کریں کہ جاؤ اور قریش کے سرداروں کے پہلو میں بیٹھ جاؤ جب میں اشارہ کروں تو ان کی زندگی کا خاتمہ کردینا؟! ان باتوں کی رشتہ داری اور خاندانی وابستگی کے ذریعہ تفسیر نہیں کی جاسکتی ۔ یہ اپنے بھتیجے پر متحکم ایمان اور ان کی نبوت پر اعتقاد کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے۔

دلیل چہارم: اہلبیت علیہ السّلام کی روایات

1- اہل بیت پیغمبر علیہم السلام کے ذریعہ سے ہم تک پہنچنے والی احادیث میں حضرت ابوطالب کے ایمان واخلاص کے بڑی کثرت سے مدارک نظر آتے ہیں، جن کو یہاں نقل کرنے سے بحث طولانی ہو جائے گی ،یہ احادیث منطقی استدلال کی حامل ہیں ان میں سے ایک حدیث چوتھے امام علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے اس میں امام علیہ السلام نے اس سوال کے جواب میں کہ کیا ابوطالب مومن تھے؟ جواب دینے کے بعد ارشاد فرمایا:

”انَّ ھُنَا قَوماً یَزْعَمُونَ اٴنَّہُ کَافِرٌ“ اس کے بعد فرمایا:” تعجب کی بات ہے کہ بعض لوگ یہ کیوں خیال کرتے ہیں کہ ابوطالب کافرتھے،کیا وہ نہیں جانتے کہ وہ اس عقیدہ کے ساتھ پیغمبر اور ابوطالب پر طعن کرتے ہیں کیا ایسا نہیں ہے کہ قرآن کی کئی آیات میں اس بات سے منع کیا گیا ہے (اور یہ حکم دیا گیا ہے کہ ) مومن عورت ایمان لانے کے بعد کافر کے ساتھ نہیں رہ سکتی اور یہ بات مسلم ہے کہ فاطمہ بنت اسد سلام اللہ علیہا سابق ایمان لانے والوں میں سے ہیں اور وہ ابوطالب کی زوجیت میں ابوطالب کی وفات تک رہیں۔“۱

(الغدیر ، جلد ۸)

2- ایمان ابو طالب پر امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:

إِنَّ مَثَلَ أَبِي طَالِبٍ مَثَلُ أَصْحَابِ اَلْكَهْفِ أَسَرُّوا اَلْإِيمَانَ وَ أَظْهَرُوا اَلشِّرْكَ فَآتَاهُمُ اَللَّهُ أَجْرَهُمْ مَرَّتَيْنِ

ترجمہ: ابو طالب(ع) کی مثال اصحاب کہف کی مثال ہے جنہوں نے اپنا ایمان خفیہ رکھا اور شرک کو ظاہر کیا پس خداوند متعال نے انہیں دو گنا اجر عطا کیا۔۲

(الکافی، ج1، ص448)

3-امام جعفر صادق علیہ السلام نے یونس بن نباتہ کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے فرمایا:

إِنَّ أَبَا طَالِبٍ مِنْ رُفَقَاءِ اَلنَّبِيِّينَ وَ اَلصِّدِّيقِينَ وَ اَلشُّهَدٰاءِ وَ اَلصّٰالِحِينَ وَ حَسُنَ أُولٰئِكَ رَفِيقاً

ترجمہ: بےشک ابو طالب(ع) انبیاء، صدیقین، شہدائے راہ خدا اور صالحین کے رفیق و ہم نشین ہیں اور یہ بہت ہی اچھے رفیق ہیں۔۳

( کنز الفوائد، ص80)

4- حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے روایت ہے: " لو وضع ایمان ابی طالب في كفه وايمان الخلائق في الكفة الأخرى لرجح ایمان ابی طالب على ايمانهم .... فكان والله امير المومنين يحج عن ابيه وامه وعن اب رسول الله حتى مضى، ووصى الحسن والحسين عليهم السلام بمثل ذالک، و كل امام منا يفعل ذالك الى ان يظهر امرہ "اگر ابو طالب کے ایمان کو ترازو کے ایک پلہ میں رکھا جائے اور تمام مخلوق کے ایمان کو دوسرے پلہ میں رکھا جائے تب بھی ابو طالب کے ایمان کا پلہ ان کے ایمان پر بھاری رہے گا۔ خدا کی قسم امیر المومنین علیہ السلام جب تک زندہ تھے اپنے والدین اور رسول خدا کے والد کی طرف سے حج بجالاتے تھے ۔ انہوں نے وصیت فرمائی کہ حسن و حسین علیہما السلام بھی ایسا ہی کریں اور ہمارا ہر امام جب تک کہ خدا کے امر کو ظاہر کرے گا یہی نیابت انجام دیتا رہے گا۔۴(مستدرک الوسائل ج ۸، ص۷۰)

5ـ۔ رسول خدا سے مروی ہے: هبط جبرئیل وقال : يا محمد ان الله حرم النار على ثلاثة : صلب انزلك، وبطن حملک، و حجر کفلک " جبرئیل امین نازل ہوئے اور کہا : اے محمد ! خداوند عالم نے تین لوگوں پر جہنم کی آگ کو حرام قرار دیا ہے ، آپ کے والد جن کے صلب سے آپ کا وجود ہے، آپ کی ماں جن کے بطن سے آپ کی ولادت ہوئی ہے اور وہ شخص جس کے دامن میں آپ کی پرورش ہوئی ہے ۔۵ (روضة الواعظین ، فتال نیشا پوری ص ۱۳۹ )

نتیجہ:

بس جب انسان ان روایات اور تاریخ کا مطالعہ کرتا ہے تو پتا چلتا ہے کہ جو الزامات حضرت ابو طالب پر لگائیں گئے ہیں وہ ناصبیت کے مارے لوگوں نے لگائیں ہیں جو اہلبیت سے بغض رکھتے ہیں حضرت ابو طالب وہ شخص ہیں جس کی وجہ سے اسلام آگے بڑھا آپ وہ ہستی ہیں جنہوں نے اپنی جان کی پرواہ نہیں کی اور ہر وقت اسلام کی سربلندی اور رسول اکرم کی حفاظت کے لیے آگے بڑھے ،چاہے وہ شعب ابی طالب کی سختی ہی کیوں نہ ہو آپ نے برداشت کی۔

حوالہ جات:

1ـ کتب

۱ـ مجلہ: نور معرفت ،جلد: 14 ،ناشر : نور الہدیٰ ٹرسٹ اسلام آباد

۲ـحضرت ابوطالب علیہ السلام حامی رسول علامہ امینی کی کتاب الغدیر سےاقتباس ،ترتیب و تحقیق حجة الاسلام محمد حسن شفیعی شاهرودی،ترجمه سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری

2-احادیث

۱ـ الغدیر ، جلد ۸

۲ـ الکافی، ج1، ص448

۳ـ کنز الفوائد، ص80

۴ـ مستدرک الوسائل ج ۸، ص۷۰

۵ـ روضة الواعظین ، فتال نیشا پوری ص ۱۳۹

3 - قرآن کریم

۱ـ٫٫قَالَ اَرَاغِبٌ اَنۡتَ عَنۡ اٰلِہَتِیۡ یٰۤـاِبۡرٰہِیۡمُ ۚ لَئِنۡ لَّمۡ تَنۡتَہِ لَاَرۡجُمَنَّکَ وَ اہۡجُرۡنِیۡ مَلِیًّا﴿۴۶ سورۃ مریم

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha